عربی خطبے کا اردو ترجمہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امت مسلمہ کے فرد فرد پر سلام، وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔ آج عالمِ اسلام میں ایک عظیم الشان اور تقدیر ساز واقعہ ظہور پذیر ہورہا ہے۔ ایک ایسا واقعہ جو اس خطے میں سامراج کے تمام اندازوں کو اسلام اور ملتوں کے حق میں بدل سکتا ہے۔ ایک ایسا حادثہ جو عرب عوام اور امت مسلمہ کی جانب عزت و کرامت کو واپس لوٹا سکتا ہے اور کئی عشروں کے ظالمانہ اعمال اور امریکا اور مغرب کی جانب سے ان قدیم اور گہری جڑیں رکھنے والی ملتوں کی جو تحقیر و تذلیل کی گئی، وہ ان کے چہرے سے دور کرسکتا ہے۔
یہ معجز نما حادثہ ملتِ تیونس کے ذریعے شروع ہوا اور مصر کی عظیم اور باشعور ملت کے ذریعے اپنے عروج پر پہنچا۔ عالمِ مغرب اور عالمِ اسلام دونوں سانس روکے دیکھ رہے ہیں ۔۔ ہر ایک اپنے مطمع نظر کے مطابق ۔۔ کہ عظمت والا مصر، گذشتہ صدی کے نابغۂ روزگار افراد کا مصر، محمد عبدہ اور سید جمال کا مصر، سعد زغلول اور احمد شوقی کا مصر، جمال عبد الناصر اور شیخ حسن البناء کا مصر، ١٩٦٧ اور ١٩٧٣ کا مصر اب کیا کرتا ہے؟ اور اپنی ہمت کے پرچم کو کب تک اٹھا کے رکھتا ہے۔ معاذ اللہ اگر یہ پرچم گر گیا تو ایک تاریک دور آجائے گا اور اگر چوٹی پر پہنچ کر نصب ہوگیا تو آسمانوں تک جا پہنچے گا۔
تیونس کے عوام غدار اور امریکہ کے کاسہ لیس اور دین ستیز حکمران کو نکالنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ لیکن غلطی ہوگی اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ' وہی مطلوبہ نتیجہ ہے۔ ایک وابستہ نظام، سامنے نظر آنے والے چند مہروں کی تبدیلی سے ختم نہیں ہوتا۔ اگر ان مہروں کی جگہ انہی کے ساتھی آجائیں تو کچھ تبدیل نہیں ہوا اور فریب کا جال عوام کے سامنے پھیلا دیا گیا۔ انقلابِ اسلامی ایران میں کئی بار انہوں نے چاہا کہ ہماری ملت کو اس جال میں پھنسا لیں لیکن ملت اور عظیم و الہی رہبر کی ہوشیاری نے دشمن کے فریب کو پہچان لیا اور اس کو ناکام کردیا اور آخر تک پہنچایا۔
سامراج مخالف مصر ۔۔۔ عرب دنیا کا رہنما
اور اب مصر، مصر کا مسئلہ ایک بے مثال نمونہ ہے، کیونکہ عالمِ عرب میں مصر ایک بے مثال ملک ہے۔ مصر دنیائے اسلام کا پہلا ملک ہے جو یورپی تہذیب سے آشنا ہوا اور دنیائے اسلام کا پہلا ملک ہے جس نے اس تہذیبی یلغار کے خطرے کو پہچانا اور اس کے مقابلے میں ایک موقف اپنایا۔ پہلا عرب ملک ہے جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک مستقل حکومت تشکیل دی اور نہرِ سوئز کو قومیا کر اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا۔ یہ وہ پہلا ملک ہے جو پوری طاقت کے ساتھ فلسطین کی مدد کے لیے بڑھا اور دنیائے اسلام میں فلسطینیوں کی پناہ گاہ کے طور پر پہچانا گیا۔ سید جمال الدین، مصری نہیں تھے لیکن کسی مسلمان ملت کی جانب سے اپنی عظیم فکر کو سمجھنے کی انہیں مصر کی ملت کے علاوہ کہیں اور امید بھی نہیں تھی۔ مصری عوام نے دینی و سیاسی جدوجہد میں اپنی صلاحیت کو ثابت اور تاریخ میں ثبت کیا۔ محمد عبدہ اور اس کے شاگرد، سعد زغلول اور اس کے حامی رجعت پسند اور دنیا سے بے خبر لوگ نہیں تھے۔ یہ حضرات نابغۂ روزگار، بہادر اور بیدار لوگ تھے کہ ہر ملت ان میں سے ایک فرد کی پرورش کر کے اپنی استعداد پر فخر کر سکتی ہے۔ مصر اس تہذیبی، دینی اور سیاسی گہرائی کے ساتھ، بالکل درست طور پر، عرب دنیا کا رہنما بنا۔
مصر کے موجودہ نظام کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے اس ملک کو اس کے عظیم رتبے سے نیچے اتار کر خطے کے سیاسی شطرنج پر ایک بے اختیار مہرہ بنا کر رکھ دیا۔ مصر کی عظیم ملت کا یہ دھماکہ، اس خطرناک غداری کا جواب تھا جو وابستہ آمر نے اپنی ملت سے کی تھی۔
آج پوری دنیا میں ملت مصر کے قیام کے بارے میں طرح طرح کے تجزیوں کا بازار گرم ہے اور ہر کوئی ایک بات کہہ رہا ہے۔ لیکن جو بھی مصر کو پہچانتا ہے وہ واضح طور پر جان لے گا کہ مصر اپنی کرامت اور عزت کے دفاع میں مصروف ہے۔ مصری عوام نے غدار کا گریبان پکڑ لیا ہے جس نے ان کی عزت کو ملیا میٹ کر دیا اور جو ملت عزت کی بلندیوں پر تھی، اسے دشمنوں کے غرور و تکبر کے ہاتھوں برباد کردیا۔
موجودہ مصر اور فلسطین
ایک اور واضح مثال، فلسطین کے مسئلے پر مصر کا مقام ہے۔ فلسطین کئی عشروں سے اس خطے کا مرکزی ترین مسئلہ ہے اور اس کی کشیدگی اتنی ہے کہ اس خطے کا کوئی ملک اور کوئی ملت اپنی تقدیر کو فلسطین سے الگ کر کے تصور نہیں کرسکتی۔ دو ہی محاذ ہیں؛ یا فلسطین اور اس کے عادلانہ جہاد کی حمایت، یا پھر اس کے مدمقابل محاذ میں چلے جانا۔
خطے کی عوام نے ابتداء ہی سے اپنا موقف واضح کر دیا ہے، لہذا جب کوئی حکومت فلسطین کی حمایت کرتی ہے تو وہ اپنی عوام اور دوسری عرب اور مسلمان عوام کی حمایت یافتہ ہو جاتی ہے۔ اس بات کو مصر نے ساٹھ اور ستر کے عشرے میں آزما لیا ہے۔ لیکن جب وہ حکومت اپنے آپ کو دوسرے محاذ پر بٹھاتی ہے، تو ملت اس سے منہ موڑ لیتی ہے۔ مصر میں کیمپ ڈیوڈ جیسے شرمناک معاہدے سے حکومت اور عوام کے درمیان خلا پیدا ہوا۔ ملت مصر جو کہ ٦٧ اور ٧٣ میں اپنی جان و مال کے ساتھ فلسطین کی مدد کے لیے بڑھی تھی، انہوں نے بتدریج دیکھا کہ ان کے حکمران امریکہ کے اس طرح سے مطیع اور سرسپردہ ہوگئے ہیں کہ مصر غاصب صیہونی دشمن کے وفادار حلیف میں تبدیل ہوگیا ہے۔ مصر کے حکمرانوں پر امریکی تسلط نے فلسطین کی خاطر ملت کی تمام گذشتہ زحمات کو برباد کردیا اور فلسطین کے سب سے بڑے دشمن اور صیہونیوں کے سب سے بڑے حامی میں تبدیل ہوگیا۔
حالانکہ شام، جو کہ ٦٧ اور ٧٣ کی جنگ میں مصر کا شریک تھا، امریکہ کے شدید ترین دباؤ کے باوجود، اپنے مستقل موقف پر قائم رہا۔ مصر کا سرسپردہ نظام یہاں تک پہنچ گیا مصری عوام نے تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھا کہ غزہ میں ان کے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اسرائیل کی جنگ میں ان کی حکومت اسرائیل کا ساتھ دے رہی ہے اور نہ صرف یہ کہ مدد نہیں کر رہی بلکہ دشمن کے محاذ میں پوری طرح سرگرم ہے۔ تاریخ کبھی نہیں بھلائے گی کہ حسنی مبارک وہی ہے جس نے غزہ کے عوام کے وحشت ناک محاصرے اور بائیس روزہ مردوں عورتوں اور بچوں کے قتلِ عام میں اسرائیل کی معاونت کی، ان کا امین اور شریک بنا۔ وہ ایام اہلِ مصر نے کیسے گزارے ہوں گے؟ ٹیلی ویژن نے مصری عوام کے شدید جذبات کے بعض مناظر دکھائے کہ وہ اپنی حالت پر اور اس بات پر کہ فلسطینی بھائیوں کی مدد نہیں کرسکتے، گریہ و زاری کرتے تھے۔ مصر کی مسلمان عوام اور کتنا برداشت کرسکتی تھی؟ آج جو کچھ قاہرہ اور مصر کے دوسرے شہروں میں دکھائی دے رہا ہے، یہ مقدس غیض و غضب کا پُرنور دھماکہ اور اس لاوے کا ابال تھا جو گذشتہ کئی برسوں کے دوران بے دین، غدار اور کٹھ پتلی حکومت نے اپنے عمل سے مصر کے حریت پسند مردوں اور عورتوں کے دلوں میں بھر دیا تھا۔
ہر قیام کے مخصوص تقاضے
مصر کی ملت اسلامیہ کا قیام ایک اسلامی اور آزادی کے حصول کی تحریک ہے۔ میں ایران کی انقلابی ملت اور حکومت کی جانب سے آپ مصر و تیونس کے عوام پر سلام بھیجتا ہوں اور خدائے عزیز سے آپ لوگوں کی مکمل کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ میں آپ لوگوں پر اور آپ کے قیام پر افتخار کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملتوں کا قیام، ہر ملک کے جغرافیائی، تاریخی، سیاسی اور تہذیبی تقاضوں کے مطابق مخصوص انداز کا ہوتا ہے اور تیس سال پہلے جو کچھ ایران میں عظیم اسلامی انقلاب کے دوران واقع ہوا، بالکل اسی چیز کی توقع مصر یا تیونس یا کسی بھی دوسرے اسلامی ملک میں نہیں کی جاسکتی۔ لیکن بعض ایسے مشترکات ضرور پائے جاتے ہیں جن میں ایک ملت کے تجربات دوسری ملتوں کے کام میں آسکتے ہیں۔
انقلابِ اسلامی کے تجربات
جو تجربات آج کام میں آسکتے ہیں، وہ یہ ہیں:
١۔ ہر عوامی تحریک میں حقیقی جنگ ارادوں کے درمیان ہوتی ہے۔ جو فریق اپنے عزم میں زیادہ مصمم ہوگا اور سختیوں کو برداشت کرے گا، اس کی کامیابی یقینی ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ:
''اِنَّ الَّذینَ قَالوا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقاموا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلائِکَةُ اَلَّا تَخافوا وَ لَاتَحْزَنوا وَ اَبْشِروا بِالْجَنَّةِ الَّتی کُنْتُمْ تُوعَدونَ'' (سورۂ فصلت ۔ ٣٠)
(بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اﷲ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا)۔
اور اپنے پیغمبر سے فرماتا ہے:
''فَلِذٰلِکَ فَادْعُ وَ اسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ وَ لَاتَتَّبِعْ اَھْوَائَھُمْ'' (سورۂ شوریٰ۔ ١٥)
( پس آپ اسی (دین) کے لئے دعوت دیتے رہئے اور جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے (اسی پر) قائم رہئے اور اُن کی خواہشات پر کان نہ دھریئے)۔
دشمن کی کوشش ہے کہ دھوکے اور فریب سے آپ کے ارادوں کو کمزور کردے۔ دھیان رکھیں کہیں آپ کا ارادہ کمزور نہ ہو جائے۔
٢۔ آپ کا دشمن یہ کوشش کرے گا کہ آپ لوگوں کو اپنے ہدف تک پہنچنے سے مایوس کردے۔ جبکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ:
''وَ نُرِیدُ اَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذینَ اسْتُضْعِفوا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَھُمْ اَئِمَّةً وَ نَجْعَلَھُمُ الْوارِثِینَ'' (سورۂ قصص ۔ ٥)
(اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایسے لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں (حقوق اور آزادی سے محرومی اور ظلم و استحصال کے باعث) کمزور کر دیئے گئے ہیں اور انہیں رہبر و پیشوا بنا دیں اور انہیں (روئے زمین کے) وارث بنا دیں)۔
اللہ کے پکے اور سچے وعدے پر اعتماد کریں جو کہتا ہے:
''وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَنْصُرُہُ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیّ عَزیز'' (سورۂ حج ۔ ٤٠)
اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ بڑا قوت والا (سب پر) غالب ہے)۔
٣۔ آپ کا دشمن اپنے ایجنٹوں کو اسلحہ دے کر آپ کے مقابلے میں بھیجے گا تاکہ بے امنی اور افراتفری کی وجہ سے لوگ تنگ آجائیں۔ ان سے نہ گھبرائیے۔ آپ ان ایجنٹوں سے زیادہ قوت رکھتے ہیں۔ آپ اس وقت ایک ایسے مرحلے میں ہیں کہ خدا نے اس مرحلے پر اپنے نبی اور ان کے اصحاب سے فرمایا:
''یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی الْقِتالِ اِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرونَ صابِرونَ یَغْلِبوا مِأتَیْنِ وَ اِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِأَة یَغْلِبوا اَلْفاً مِنَ الَّذینَ کَفَرُوا بِاَنَّھُمْ قَوْم لَایَفْقَھُونَ'' (سورۂ انفال۔ ٦٥)
(اے نبئ (مکرّم!) آپ ایمان والوں کو جہاد کی ترغیب دیں (اور حق کی خاطر لڑنے پر آمادہ کریں)، اگر تم میں سے (جنگ میں) بیس (20) ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو (200) (کفار) پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے (ایک) سو (ثابت قدم) ہوں گے تو کافروں میں سے (ایک) ہزار پر غالب آئیں گے اس وجہ سے کہ وہ (آخرت اور اس کے اجرِ عظیم کا) فہم و شعور نہیں رکھتے)۔
آپ خدا پر بھروسہ اور اپنے پُرجوش نوجوانوں پر اعتماد کر کے ہر بے امنی اور افراتفری پر غالب آسکتے ہیں۔
٤۔ بڑی طاقتوں اور ان کے ایجنٹوں کے مقابلے میں عوام کا ہتھیار، ان کا اتحاد ہے۔ آپ کا دشمن کوشش کرے گا کہ طرح طرح کی سازشوں کے ذریعے آپ کے اتحاد کو پارہ پارہ کردے۔ اختلافی مسائل کا اظہار، انحرافی نعروں کو برملا کرنا، برا ماضی رکھنے والے اور غیر قابلِ اعتماد لوگوں کو خیانت کار صدر کا جانشین بنانا وغیرہ ان باتوں میں سے ہیں جن سے تفرقہ ڈالا جاسکے۔ دین اور دشمنوں کے شر سے اپنے ملک کی نجات کی بنیاد پر اپنے اتحاد کی حفاظت کریں۔
''وَ اعْتَصِموا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمیعاً وَ لَاتَفَرَّقوا'' (سورۂ آل عمران ۔ ١٠٣)
(اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں مت پڑو)۔
٥۔ امریکہ او رمغرب کی سیاسی چالبازیوں اور فریب کاریوں پر اعتماد نہ کیجئے۔ وہ لوگ جو چند دن پہلے تک فاسد حکومت کی پشت پناہی کرتے تھے، آج جب ان کی بقاء سے مایوس ہوگئے ہیں تو عوامی حقوق کا دَم بھرنے لگے ہیں۔ وہ لوگ اس بھیس میں آکر کوشش کریں گے کہ چند مہروں کو ادھر ادھر کردیں اور شخصیت سازی کے ذریعے ایک بار پھر اپنے ہی ایجنٹوں کو آپ لوگوں پر مسلط کردیں۔ یہ عوام کے شعور کی توہین ہے۔ اسے برداشت نہ کریں اور ایک غیر وابستہ، عوامی اور اسلام پر ایمان رکھنے والے نظام کے علاوہ کسی اور بات پر راضی نہ ہوں۔
٦۔ علمائے دین اور عظیم الازہر کے علمائ، کہ جس کا شاندار ماضی مشہور ہے، اپنے کردار کو برجستہ کریں۔ جو لوگ اپنی تحریک کا آغاز مسجد اور نمازِ جمعہ سے کرتے ہیں اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہیں، وہ علمائے دین سے زیادہ توقع رکھتے ہیں اور ان کی یہ توقع بجا ہے۔
٧۔ مصر کی فوج، جسے صیہونی دشمن کے ساتھ کم از کم دو جنگوں میں شرکت کرنے کا اعزاز حاصل ہے، اس مرحلے پر ایک عظیم اور تاریخی آزمائش میں ہے۔ دشمن چاہتا ہے کہ اسے لوگوں کو دبانے کے لیے استعمال کرے۔ اگر خدا نخواستہ ایسا ہوگیا تو جو نقصان ہوگا وہ فوج کے لیے ناقابلِ تلافی ہوگا۔ جن کو مصری فوج سے ڈرنا چاہیے وہ صیہونی ہیں نہ کہ مصری عوام۔ البتہ فوج کے ارکان، جو کہ عوام ہی میں سے ہیں اور انہی کے بیٹے ہیں، آخرکار عوام سے ملحق ہو جائیں گے اور یہ دلکش تجربہ ایک بار پھر مصر میں دہرایا جائے گا۔
٨۔ اور آخری بات یہ کہ امریکہ کہ جس نے تیس سال تک مصری عوام کی مخالفت میں اپنے نوکر حکمرانوں کی حمایت کی ہے، اب وہ ایسی حالت میں نہیں ہے کہ مصر کے معاملے میں ثالثی کر سکے۔ اس معاملے میں امریکہ کے ہر اقدام اور ہر تاکید کو شک کی نگاہ سے دیکھیں اور اس پر اعتماد نہ کریں۔
دشمن کا پروپیگنڈہ اور ہماری ذمہ داری
عزیز بہنو اور بھائیو! یہ ہمارے تجربات ہیں۔ میں نے آپ کے ایک مسلمان بھائی کی حیثیت سے اور دینی ذمہ داری سمجھ کر، یہ باتیں عرض کی ہیں۔ دشمن کی پروپیگنڈہ مشینری ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر شور مچائے گی کہ ایران مداخلت کرنا چاہتا ہے، مصر کو شیعہ کر دینا چاہتا ہے، مصر میں ولایت فقیہ کو برآمد کرنا چاہتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ وہ جھوٹ ہیں جو وہ تیس برسوں سے بول رہے ہیں تاکہ ہماری ملتوں کو ایک دوسرے سے جدا اور ایک دوسرے کی مدد سے محروم کردے اور ان کے ایجنٹ بھی اس کو دہراتے رہتے ہیں۔
''یُوحِی بَعْضُھُمْ اِلیٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُروراً وَ لَوْ شَائَ رَبُّکَ مَا فَعَلوہ فَذَرْھُمْ وَ مَایَفْتَرونَ'' (سورۂ انعام۔ ١١٢)
(اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جِنّوں میں سے شیطانوں کو دشمن بنا دیا جو ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی ہوئی (کنی چپڑی) باتیں (وسوسہ کے طور پر) دھوکہ دینے کے لئے ڈالتے رہتے ہیں، اور اگر آپ کا ربّ (انہیں جبراً روکنا) چاہتا (تو) وہ ایسا نہ کر پاتے، سو آپ انہیں (بھی) چھوڑ دیں اور جو کچھ وہ بہتان باندھ رہے ہیں (اسے بھی))۔
ان سازشوں سے ہم اُن ذمہ داریوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے جو اسلام نے ہمارے شانوں پر ڈالی ہیں۔
و اللّٰہُ من وراء القصد
و استغفر اللّٰہَ لی و لکم
بشکریہ از جناب نذر حافی